Sunday, June 28, 2009

امریکہ کو ڈیجیٹل فوج کی ضرورت


امریکہ کو ڈیجیٹل فوج کی ضرورت


اطلاعات کے مطابق امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے، نیشنل سکیورٹی ایجنسی، کے سربراہ نے کہا ہے کہ مستقبل میں امریکہ کو ڈیجیٹل جنگ کی ماہر فوج کی ضرورت ہوگی۔

یہ بات لیفٹنٹ جنرل کِیتھ الگزینڈر نے، جو پینٹاگن کی نئی سائبر کمانڈ کے سربراہ بھی ہیں، مسلح افواج سے متعلق کانگریس کی ذیلی کمیٹی کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو سائبر حملہ کرنے اور اپنا دفاع کرنے کے لیے تنظیمِ نو کی ضرورت ہے۔

جنرل کِیتھ الگزینڈر نے کہا ’جس طرح سے سائبر سپیس کی ترقی اور ارتقا ہو رہا ہے، اس کی اہمیت اور پیچیدگی بڑھ رہی ہے، ہماری قوم کو چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی میں اپنی سبقت برقرار رکھے اور اس نئی دنیا میں آزادی کے ساتھ اپنے مقاصد کے لیے کام کرے۔‘

ان کے بقول ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ اس کی کمزوریاں بھی آشکارا ہوتی ہیں جن کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’سائیبر سپیس میں نقل و حرکت کی آزادی امریکی مفادات کے لیے بالکل اسی طرح سے اہم ہے جس طرح انیسویں صدی میں سمندروں اور بیسویں صدی میں فضاؤں تک رسائی اہم تھی۔‘

رپورٹ کے مطابق سائیبر سپیس امریکہ کے دشمنوں کو پنپنے کا ماحول فراہم کرتا ہے اور امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کی حفاظت کے لیے چوکنا رہے۔

اطلاعات ہیں کہ سائیبر سکیورٹی سے متعلق وائٹ ہاؤس کی جائزہ رپورٹ جلد ہی شائع کر دی جائے گی اور کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما انفرمیشن ٹیکنالوجی سکیورٹی سے متعلق کسی تقرری کا بھی اعلان کریں گے۔

امراضِ قلب کا خطرہ

جنوبی ایشیائی ورزش سے دور

ایک ریسرچ کے مطابق برطانیہ میں جنوبی ایشیائی بچے دوسرے بچوں کے مقابلے میں کم ورزش کرتے ہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بچوں میں امراضِ قلب کے جائزے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایشیائی لوگوں میں بڑے ہو کر ٹائپ ٹو کی ذیا بیطس اور امراضِ قلب کاخطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اس جائزے میں برمنگھم، لیسٹر اور لندن کے نو سے دس سال کی عمر کے 2000 بچوں کا جائزہ لیا گیا۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر مائک نیپٹن کا کہنا ہے کہ ایشیائی بچوں میں ورزش کا رجحان بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اس جائزے میں افریقی اور یورپی بچوں کو بھی شامل کیاگیا تھا۔ برطانیہ کےجنوبی ایشیائی بچوں کا زیادہ تر وقت کمپیوٹرگیمز کھیلنے یا پھر ٹی وی کے سامنےگزرتا ہے اور وہ دوسرے برطانوی بچوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر کم متحرک ہوتے ہیں۔

ان بچوں میں صرف پچپن فیصد بچے ہی اس معیار پر پورے اتر سکے جس کے تحت دن میں کم سے کم ایک گھنٹہ ہلکی ورزش کی جانی ضروری ہے۔ ان کے مقابلے ستر فیصد یورپی بچے اور 69 فیصد سیاہ فام بچے اس معیار پر پورے اترے۔

ڈاکٹر مائک کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی نسل کے بچوں کو جسمانی طور پر متحرک رکھنے سے بڑی عمر تک ان کی صحت اچھی رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس جائزے سے ہمیں اس بات کو سمجھنے میں بھی مدد ملےگی کہ برطانوی جنوب ایشیائی لوگوں میں ٹائپ ٹو قسم کی ذیا بیطس اور امراضِ قلب کا خطرہ کیوں ہوتا ہے اور اس خطرے کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔

گندے انڈوں کی بدبو میں جنسی توانائی


گندے انڈوں سے نکلنے والی بدبو کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں جنسی کمزوری کی ایک دوا کا راز پوشیدہ ہو سکتا ہے۔

اٹلی کی یونیورسٹی آف نیپلز کے ماہرین کی ایک ٹیم کے مطابق گندے انڈوں سے نکلنے والی گیس، ہائیڈروجن سلفائیڈ، مردانہ جنسی طاقت کو بڑھانے میں معاون ہوتی ہے۔

اطالوی ماہرین نے اپنی تحقیق جریدے نیشنل اکیڈمی آف سائنس میں شائع کی ہے جس میں ان کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے نتیجے میں جنسی توانائی کی مشہور عالم دوا 'ویاگرہ' کا بدل بنانے میں کامیابی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ہر دس میں سے ایک مرد کو جنسی کمزوری کا سامنا رہتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہائیڈوجن سلفائیڈ جنسی اعضاء میں خون کی نالیوں میں تناؤ کو کم کرتی ہے جس سے خون کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہائیڈوجن سلفائیڈ گندے انڈوں کے علاوہ گاڑیوں کے ایگزاسٹ سے بھی خارج ہوتی ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم نے آٹھ مردوں کو کئی چوہوں کی جنسی توانائی پر مذکورہ گیس کے اثرات کا مطالعہ کیا۔

ٹیم کے سربراہ پروفیسر گیسپو سیرینو کا کہنا ہے کہ تجربات کی بنیاد پر انہیں لگتا ہے کہ مردوں کو چوہوں کی جنسی توانائی میں بہتری کا سبب مذکورہ گیس ہی تھی۔ اسی بنیاد پر ان کا کہنا ہے کہ یہ دریافت جنسی کمزوری کی کسی نئی دوا بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

برطانوی ادارے، سیکشؤل ڈِسفنگشن ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر گراہم جیکسن نے اس مطبوعہ تقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنسی کمزوری کی نئی دوا کی دریافت بہت خوش آئند خبر ہو سکتی ہے۔

نہوں نے کہا کہ ویاگرا کا کوئی بدل بنانے کے یقیناً ضرورت ہے کیونکہ ویاگرا شوگر کے مریضوں میں صرف ساٹھ فیصد اور عام لوگوں میں اسی سے پچاسی فیصد کامیاب رہتی ہے۔

دستی بموں میں اب مرچ استعمال ہوگی

ہندوستان کے دفاعی سائنسدان دستی بموں ميں مرچ کے پاؤڈر کے استعمال کا فارمولہ تیار کر رہے ہيں۔ اطلاعات کے مطابق اس قسم کے بموں کا استعمال فرقہ وارانہ فسادات میں بلوائیوں اور شدت پسندوں کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستان کے دفاعی تحقیق کے ادارے ڈی آر ڈی او کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسے چھوٹے دستی بم بنانے کا فارمولہ تیار کیا ہے جس میں مرچ کا پاؤڈر ملا ہوا ہوگا۔

ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان میں شمال مشرقی ریاستوں میں پیدا کی جانے والی مرچ کا استعمال کیا جائے گا۔ ان علاقوں میں پیدا کی جانے والی مرچ کی تاثیر انتہائی تیکھی ہوتی ہے۔

اس قسم کے دستی بموں کے استعمال سے کسی شخص کی جان تو نہیں جائے گی لیکن یہ بم اس شخص کو وقتی طور پر بیکار ضرور کر دے گا۔

ان بموں میں بھت جولوکیا قسم کی مرچوں کا استعمال ہوگا جو عام طور پر استعمال ہونے والی مرچ سے کہيں زيادہ تیکھی ہوتی ہیں۔

ڈی آر ڈی او نے یہ بھی کہا ہے کہ اس قسم کی مرچوں کا استعمال ٹھنڈی ریاستوں ميں تعینات افواج کی خوراک میں بھی کیا جائے گا۔ سائنسدانوں کے مطابق اسے کھانے سے جسم کی گرمی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

بھت جولوکیا مرچ کی شدت ناپنے والے اسکوولے پیمانے پر دس لاکھ یونٹ گرمی پیدا کرتی ہے۔ اس پیمانے کا نام ایک امریکی سائنسدان ولبر اسکوولے کے نام پر کیا گیا تھا جنہوں نے مرچ ميں شدت کی پیمائش کا فارمولہ ایجاد کیا تھا۔