Flood news (Sindh Pakistan)
By: Imran Ali Khan Qambrani (Ubauro, Guddo, Sukkur)
Tuesday, August 17, 2010
"Flood effects on Economy"
Thursday, August 12, 2010
Pakistani Leaders Tour Flood-Ravaged Areas
The floods, triggered by monsoon rains, have killed at least 1,600 people and affected close to 14 million in the Khyber-Pakhtunkhwa, Punjab and Sindh provinces over the last two weeks. The U.N. has appealed for $460 million dollars to provide immediate help, including food, shelter and clean water.
Mr. Zardari flew to the southern city of Sukkur in Sindh on Thursday to assess the damage and the relief operation. The visit comes days after he returned from a controversial trip to Europe.
Prime Minister Yousuf Raza Gilani traveled to flood-hit areas in the southwestern Baluchistan region Thursday, saying the government will do its best to meet aid needs.
Two U.S. military helicopters were the first of 19 to arrive in Pakistan on Thursday from a U.S. aircraft carrier, the USS Peleliu, in the Arabian Sea. The aircraft will help with relief efforts and replace six combat helicopters from the U.S. war effort in neighboring Afghanistan.
U.S. Defense Secretary Robert Gates ordered the 19 helicopters to Pakistan on Wednesday. The U.S. embassy in Islamabad says the U.S. military has helped rescue more than 3,000 people and transported 146,000 kilograms of emergency supplies since August 5.
Pakistani Ambassador to the United Nations Abdullah Hussain Haroon on Wednesday called the floods a "horrendous disaster," saying they have affected 150,000 square kilometers of land and wiped out 4,700 villages.
Hundreds of homes, bridges and roads have been washed away, with at least two million left homeless.
A U.N. humanitarian coordinator in Pakistan, Martin Mogwanja, said U.N. health workers already have noted high levels of gastroenteritis and diarrhea among flood victims.
سیلاب: فصلیں اور اناج کے ذخائر تب

پاکستان کے وفاقی وزیرِ خوراک و زراعت نذر محمد گوندل نے کہا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے اناج کے ذخیرے اور اس وقت کی کھڑی تمام فصلیں پوری طرح تباہ ہوگئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو پاکستان میں متاثرین کے لیے امداد بھیجنی چاہیے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نذر محمد گوندل نے کہا کہ پاکستان میں سڑکیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے کی وجہ سے سیلاب زدگان کی امداد میں رکاوٹ اور مشکل پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک تو حکومتی امداد بہت کم ہے اور وہ بھی سڑکیں تباہ ہونے کی وجہ متاثرین تک پہنچانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ہمیں کاٹن، گنّے، چاول، دال اور تمباکو کی کھیتی میں زبردست نقصان پہنچا ہے۔ یہ مستقبل کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ یہ قوم کی نقدی فصلیں ہیں جس سے پاکستان کی معیشت متاثر ہو گي۔‘
پنجاب اسبملی کے رکن محسن لغاری نے بی بی سی کو بتایا اس صورت حال میں بھوک سے مر رہے متاثرین امدادی کارکنوں پر بھی حملے کر رہے ہیں۔’ان کی فصل چلی گئی اور اس کے ساتھ ہی روزی روٹی نہیں رہی، بنیادی ڈھانچہ اور سڑکیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔ اس وقت تو ہماری زمین کا ملک کے دوسرے حصے سے رابطہ ہی منقطع ہو چکا ہے۔‘
ہمیں کاٹن، گنّے، چاول، دال اور تمابکو کی کھیتی میں زبردست نقصان پہنچا ہے۔ یہ مستقبل کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ یہ قوم کی نقدی فصلیں ہیں جس سے پاکستان کی معیشت متاثر ہو گي۔
نذر گوندل
اس دوران برطانیہ میں پاکستان کے سفیر واجد شمس الحسن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ سیلاب کے لیے دی گئی امداد میں بد عنوانی ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس رقم سے لوگوں کی ممکنہ حد تک مدد کر رہی ہے۔
اس سے قبل ٹراسپیرنسی انٹر نیشنل نے الزام عائد کیا تھا کہ امداد کے لیے دی گئی رقم میں بد عنوانی کا غلبہ ہے۔
اس دوران محکمہ موسمیات نے حیدرآباد سندھ ، کالا باغ، اور پنجاب میں چشمہ میں سیلاب کے لیے خبردار کیا ہے۔ پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے اقوام متحدہ کے مطابق ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے پینتالیس کروڑ ڈالر کی امداد کی عالمی برادری کو اپیل کر رکھی ہے۔
Sunday, August 8, 2010
سیلاب سے سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ

پچھلے دو ہفتوں سے جاری بارشوں اور سیلاب نے جہاں سینکڑوں افراد کو ہلاک اور لاکھوں کو بے گھر کیا ہے وہاں وسیع پیمانے پر کھڑی فصلوں اور زرعی زمینوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں کے بازاروں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں جب کہ مزید بارشوں کی پیش گوئی کی وجہ سے اس صورتحال میں فوری بہتری کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی۔ دکانداران اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ منڈیوں میں سبزیوں اور پھلوں کی قلت بتاتے ہیں۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ ملک بھر میں پھل فراہم کرتے ہیں لیکن بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے یہاں ان کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حالیہ سیلاب سے تباہی کا شکار ہونے والے علاقوں مردان اور چارسدہ میں تمباکو اور مکئی کی فصلوں کو بہت نقصان پہنچا ہے۔
سیلابی ریلوں کی وجہ سے خوراک کے ذخیرے بھی پانی میں بہہ گئے ہیں اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ سے اجناس کی ترسیل کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔
لاہور کے تاجروں کا کہنا ہے کہ یہاں بھی زرعی اجناس کی قلت ہے اور آلو،پیاز،اور ادرک وہ بھارت سے درآمد کررہے ہیں تاہم اب انھوں نے درآمدی آرڈر کی مقدار بڑھا دی ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس کی ٹریڈ اینڈ ٹیرف کمیٹی کے چیئر مین تنویر صوفی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیلاب کے باعث فصلیں تباہ ہوگئی ہیں اور ملک میں ان کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے لہذا یہ اشیا بھارت سے منگوائی جارہی ہیں۔ ان کے بقول اس سے کچھ حد تک قیمتوں میں کمی ہوگی۔
واضح رہے کہ پاکستان میں افراط زر کی شرح پہلے ہی 12 فیصد سے زیادہ ہے، حکومت رمضان کے مہینے میں عام آدمیوں کو ریلیف مہیا کرنے کے لیے کوشاں تو ہے لیکن عام خیال یہ ہے کہ بدترین سیلاب کے نتیجے میں افراط زر میں ہونے والا اضافہ لوگوں کی مالی مشکلات اور بھی بڑھا دے گا۔
سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب

پاکستان کے صوبہ خیبرپختون خواہ ، پنجاب، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں زبردست تباہی مچانے کے بعد سیلابی ریلا اب سندھ میں داخل ہو گیا ہے جہاں اس سے مزید نقصان ہونے کا خدشہ ہے ۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہفتے کے روز بھی مزید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے دریاؤں اور نالوں میں پانی کی سطح اور بلند ہو گئی۔
امدادی کارکنوں کے لیے متاثرین کو خوراک اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی پہلے ہی کڑا چیلیج بنا ہوا ہے جب کہ بارشوں کا یہ نیا سلسلہ امدادی سرگرمیوں میں مزید رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
ادھر کراچی میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سول ادارے سندھ سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے پوری طرح متحرک ہیں ۔ "ہماری ترجیح سب سے پہلے متاثرین کو بچانا پھر انہیں امداد فراہم کرنا اور اس کے بعد تباہی کا جائزہ لے کر متاثرین کا نقصان پورا کرنا ہے جس کے لیے عالمی امداد کی بھی اپیل کی جائے گی"۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سندھ کے جن علاقوں میں سیلاب سے تباہی کا خطرہ ہے وہاں کے مکینوں کو محفوظ علاقوں کا رخ کرنے کا لیے کہا گیا ہے لیکن یہ لوگ علاقے سے جذباتی لگاؤ کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔
صوبہ سندھ میں داخل ہونے والے سیلابی ریلے کی کیا صورت حال ہے اس بارے میں آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے یعنی پی ڈی ایم اے کے ایک عہدیدار خیر محمّد کلہوڑ نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں بتایا " نو لاکھ 60 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گڈو بیراج پہنچا ہے اور اس سے سکھر، گھوٹکی اور کشمور کے اضلاع میں پانی آ گیا ہے جبکہ 90 فیصد لوگوں نے ان علاقوں کو خالی کر دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہماری امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں"
مون سون کی بارشوں سے پاکستان کی تاریخ میں آنے والے اس شدید ترین سیلاب میں سرکاری اطلاعت کے مطابق اب تک 1500 کے لگ بھگ افراد ہلاک اور ایک کڑور 20 لاکھ سے زائد متاثر ہوۓ ہیں ۔
اس قدرتی آفت میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئےہیں اور ہزاروں ایکڑ اراضی زیر آب آ گئی ہے جبکہ ان گنت املاک ، سڑکوں پلوں کے علاوہ فون اور بجلی کے نظام کو بھی نقصان پہنچایا ہے ۔

AP
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس سیلاب میں ہونے والی تباہی اس نقصان کے برابر ہے جو پاکستان میں اکتوبر 2005 میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں ہوا تھا جس میں تقریباً 80 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔
دیگر ملکوں کی طرح امریکہ نے بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہے پاکستان میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے افغانستان سے اپنے چھ ہیلی کاپٹر بھیجے ہیں۔
محمکہ موسمیات کی طرف سے آنے والے دنوں میں بارشوں کے جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے ۔
Flood Victims in Pakistan in Need of Emergency Shelter

Saturday, August 7, 2010
Pakistan Floods Threaten Sindh After More Than 3 Million People Stranded
“We’re expecting the floods may enter Sindh from Punjab by Aug. 6 or 7, affecting one million people in 2,000 villages,” Khair Mohammed Kalwar, director of operations at the Provincial Disaster Management Authority, said by telephone from Karachi. The area at risk between the towns of Sukkur and Thatta covers about 339.7 kilometers (211 miles).
The floods, which swept through villages and farmland in northwestern Khyber Pakhtunkhwa last week, and then inundated Punjab, are the worst to hit Pakistan in 80 years, UNICEF said in a statement yesterday. More than 1,500 people died in the northwest, the provincial government said.
Water flow in the Indus River is expected to reach 1 million cubic feet per second, 10 times the norm, and the army has been deployed in Sindh to help evacuate people, Kalwar said. Fifty navy boats and three helicopters are on standby.
Floodwaters demolished homes and bridges and swept away major roads across Khyber Pakhtunkhwa and Punjab and crops across the nation were damaged. The floods first struck the western province of Baluchistan on July 22.
Crops Damaged
More than 1,000 villages in Punjab were flooded and crops planted on over 1 million acres of land were damaged, Rizwan Ullah, director general of the Crisis Management Cell, said by telephone from Lahore. Communication networks have been disrupted and ground access is limited in the northwest because highways and roads have been destroyed, according to UNICEF.
More rains are forecast in the Malakand division and Swat Valley in the northwest today, Tahir Kamran Khan, a spokesman for the Provincial Disaster Management Agency, said by telephone from Peshawar.
“In nearly all the flood-affected areas, water supplies have been contaminated” Save the Children said in a statement yesterday. “There are confirmed reports of diarrhea and cholera that may spread rapidly among the hundreds of thousands who have lost their homes.”
Pakistani television networks showed survivors clinging to trees or debris in muddy, raging mountain rivers. Opposition leader Nawaz Sharif, a two-time prime minister, criticized President Asif Ali Zardari for pursuing a trip to France and the U.K. this week.
